اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف کیس میں نیا وکیل مقرر کرنے کے لیے 23 ستمبر تک کا وقت دے دیا۔

0
اسلام آباد اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف کیس میں نیا وکیل مقرر کرنے کے لیے 23 ستمبر تک کا وقت دے دیا۔

آئی ایچ سی کا ڈویژنل بینچ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ہے یہاں مریم نواز کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

سماعت کے آغاز میں مریم نواز شریف نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کے وکیل امجد پرویز نے خود کو کیس لڑنے سے معذرت کر لی ہے کیونکہ وہ کورونا وائرس میں مبتلا ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے کیس کی پیروی کے لیے نیا وکیل مقرر کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ وکیل کی خدمات حاصل کرنا ہر ایک کا حق ہے

۔

آئی ایچ سی نے نیب پراسیکیوشن ٹیم کی مخالفت کو مسترد کرتے ہوئے مریم نواز شریف کو نیا وکیل مقرر کرنے کی اجازت دی اور سماعت 23 ستمبر تک ملتوی کردی۔

دوسری جانب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈیلیور کرنے میں ناکام ہوچکی ہے

۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان مثبت تبدیلی دیکھے گا اور جعلی حکومت کو پیکنگ بھیجی جائے گی۔

مزید پڑھیں: آئی ایچ سی نے العزیزیہ ، ایون فیلڈ کیسز میں تحریری حکم جاری کیا۔

6 جولائی 2018 کو احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ایون فیلڈ پراپرٹیز کرپشن ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے

معزول وزیر اعظم نواز شریف کو 10 سال قید کی سزا سنائی تھی جو کہ آمدنی سے زائد اثاثوں کے مالک تھے۔ نیب کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔

ان کی بیٹی مریم نواز شریف کو اپنے والد کی جائیدادوں کو چھپانے میں معاون ثابت ہونے پر 7 سال اور بیورو کے ساتھ عدم تعاون پر 1 سال کی سزا دی گئی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here