4

بی فوریوکےمالک سیف الرحمان کوجوڈیشل ریمانڈپرجیل بھیجنےکاحکم

Spread the love

[ad_1]

B4U Owner

فائل فوٹو

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے بی فور یو کے مالک سیف الرحمان نیازی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

جمعرات کو احتساب عدالت میں سرمایہ کاری کے نام پرعوام سے فراڈ کے کیس کی سماعت ہوئی۔ ملزم کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں نیب نے جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر پیش کیا۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم سیف الرحمن نیازی سے مزید تفتیش کرنی ہے،ملزم دوسرے ممالک میں بھی پونزی اسکیمز چلارہا ہے ان سے متعلق تفتیش کرنی ہے، پبلک آفس ہولڈرز اور بینکس سے متعلق تفتیش کرنی ہے۔نیب پراسیکیوٹرنے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم سے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کرنی ہے اس لئے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی جائے۔

اس موقع پرملزم سیف الرحمن نیازی کے وکیل لطیف کھوسہ نے اعتراض کیا کہ جب ملزم نے کسی بینک سے قرضہ نہیں لیا تو یہ کیسے بینک کا ملزم ہوسکتا ہے، بینک کا معاملہ نیب کا دائرہ اختیار نہیں۔ لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ ایس ای سی پی نے جو جرمانہ عائد کیا ہوا ہے اس کے خلاف اپیل دائر کی ہوئی ہے، نیب نے ایک ماہ سے ملزم کو ریمانڈ میں رکھا ہوا ہے۔

ملزم کے وکیل لطیف کھوسہ نےنیب کی جانب سے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی مخالفت کی اور ملزم سے ملاقات کرنے کی استدعا کی۔ عدالت نے لطیف کھوسہ کی استدعا منظور کرتے ہوئے ملزم سے ملاقات کی اجازت دے دی۔

عدالت نے نیب کی مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی۔عدالت نے بی فور یو کے مالک سیف الرحمان نیازی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

دستاویز کے متن کے مطابق سیف الرحمان نیازی کو انکوائری میں تعاون نہ کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ ملزم سے انکوائری مکمل کرنے کیلئے گرفتاری ضروری تھی۔ خدشہ تھا کہ سیف الرحمان نیازی چھپ جائیں گے یا شواہد خراب کریں گے۔

نیب دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیف الرحمان نیازی کےخلاف کرپشن کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ ملزم نے فراڈ اور بدیانتی سے کاروبار کے نام پر جھانسہ دیا اورعوام الناس سے 11 ارب روپے بٹورے ہیں۔ گواہان کے بیانات اور شواہد کی روشنی میں فوری گرفتاری ناگزیر تھی۔ سیف الرحمان نیازی شواہد کے مطابق اب بھی فراڈ جاری رکھے ہوئے تھے۔ سیف الرحمان نے ایس ای سی پی قوانین کی بھی خلاف ورزی کی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل یکم ستمبر کو سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت میں عدالت نے نیب کو بی فور یو کمپنی کے مالک سیف الرحمان نیازی کی گرفتاری سے روکتے ہوئے ملزم کی عبوری ضمانت میں دو ہفتے تک توسیع کی تھی۔

ڈی جی نیب کے مطابق ملزم نے 116 ارب روپے کا فراڈ کیا اور اس کیس کے 4لاکھ روپے سے زیادہ متاثرین ہیں۔ ڈی جی نیب نے مزید بتایا کہ سیف الرحمان نیازی کی 4 بیویاں ہیں اور ملائیشیا میں موجود اہلیہ فراڈ کی ماسٹر مائنڈ ہے۔

کمپنی پر عمومی الزام ہے کہ اس نے عام شہریوں کو غیر معمولی منافع کے لالچ میں ورغلایا اور ان سے اربوں روپے بٹورے۔ایس ای سی پی نے اس حوالے سے سخت ایکشن لیتے ہوئے بی فار یو نامی نجی گروپ آف کمپنیز پر جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

بائیس ستمبر بروز بدھ کو سپریم کورٹ نے نیب کے دائرہ اختیار پر بی فاریوکمپنی کےمالک سیف الرحمان نیازی کا اعتراض مسترد کیا جس کے بعد ملزم کی عبوری ضمانت خارج کردی گئی۔نیب نےسیف الرحمان کو عدالت کے باہر سے گرفتار کرلیا۔

اس سے قبل دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ ملزم سیف الرحمان ٹیکس کتنا ادا کرتے ہیں۔نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ٹیکس گوشواروں کے مطابق سیف الرحمان نیازی تنخواہ دارملازم ہےاور بظاہر ان کا کوئی کاروبار بھی نہیں۔

ملزم کے وکیل لطیف کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ سیف الرحمان نیازی کے کیس پر کمپنیز ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہےجس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ غیررجسٹرڈ  کمپنیوں پر کمپنیزایکٹ کیسے لاگو ہوسکتا ہے؟۔

پچھلے ماہ سپریم کورٹ نے ملزم سیف الرحمان کو 20لاکھ روپے زرِضمانت جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے نیب کے ساتھ تعاون کرنے کا حکم دیا تھا۔عدالت نے ہدایت کی تھی کہ ملزم کے عدم تعاون پر نیب فوری آگاہ کرے۔ملزم سیف الرحمان نیازی نے کارروائی کے خلاف نیب کا دائرہ اختیار چیلنج کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں نیب کا دائرہ اختیار بنتا ہے۔

عدالت نے نیب سے ملزم کے خلاف شواہد کی تفصیلات مانگی تھیں۔ سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ نیب کا احاطہ سے ملزم گرفتار کرنا عدالتی وقار کے خلاف ہے۔ نیب ازخود اپنے افسران کے خلاف کارروائی کرکے رپورٹ پیش کرے اور رپورٹ کی روشنی میں توہین عدالت کارروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کریں گے۔

ملائیشیا نژاد پاکستانی سیف الرحمان خان نیازی کی کمپنی بی فور یو گلوبل اپنے سرمایہ کاروں کو سالانہ 2.5 گنا تک منافع دیتی تھی۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نےاربوں روپے بٹورنے والے بی فور یو نامی نجی گروپ آف کمپنیز پر 4ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا۔




[ad_2]

Source link

کیٹاگری میں : URDU

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں