8

ڈپٹی کمشنر سمیت 3 اعلیٰ افسران معطل

Spread the love

[ad_1]

بلوچستان ہائیکورٹ نے کیچ کے علاقے ہوشاب میں بم دھماکے میں 2 بچوں کے جاں بحق ہونے کے واقعے میں غفلت برتنے پر ڈپٹی کمشنر سمیت 3 افسران کو معطل کردیا جبکہ لواحقین کی خواہش کے مطابق ایف سی اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا بھی حکم دیدیا۔ مظاہرین نے عدالتی احکامات کے تناظر میں کوئٹہ میں  6  روز سے جاری دھرنا ختم کردیا۔

بلوچستان ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت چیف جسٹس بی ایچ سی نعیم اختر افغان اور جسٹس عبدالحمید بلوچ پر مشتمل بینچ نے کی، عدالت نے غفلت پر ڈپٹی کمشنر حسین جان، اسسٹنٹ کمشنر عقیل احمد اور نائب تحصیلدار رسول بخش کو معطل کرکے ان کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا۔

عدالت نے واقعے کی تحقیقات کرائم برانچ کے 3 سینیئر افسران سے کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو سرکاری طور پر شہید قرار دیکر ان کے لواحقین کی مالی مدد کی جائے اور کراچی کے اسپتال میں زیرعلاج زخمی بچے کے اخراجات سرکاری سطح پر اٹھائے جائیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے رجسڑار بلوچستان ہائیکورٹ کے نام خط لکھ کر عدالت عالیہ سے ماورائے عدالت قتل کے واقعے کا نوٹس لینے کی اپیل کی تھی۔

عدالت نے خط کو آئینی درخواست میں تبدیل کرتے ہوئے کیس کی سماعت کی، جس میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ، ڈی آئی جی پولیس، ڈی سی کیچ، ایڈووکیٹ جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل پیش ہوئے۔

عدالت نے 6 دنوں سے کوئٹہ میں میتوں کے ہمراہ دھرنے پر بیٹھے لواحقین کو احتجاج ختم کرکے بچوں کی تدفین کی ہدایت بھی کی ہے۔

دوسری طرف ہوشاب واقعے میں جاں بحق بچوں کے لواحقین نے زرغون روڈ پر ریڈ زون کے قریب 6 روز سے جاری دھرنا ختم کردیا۔ دھرنے کے شرکاء نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دھرنا بلوچستان ہائیکورٹ کے احکامات کے تناظر میں ختم کیا گیا۔

کیچ کے ضلعی ہیڈ کوارٹر تربت سے 130 کلومیٹر دور ہوشاب میں 10 اکتوبر کو دھماکا خیز مواد پھٹنے سے 6 سے 8 سال عمر کے 2 بہن بھائی شرہاتون اور اللہ بخش جاں بحق جبکہ ایک بچہ زخمی ہوا تھا۔

لواحقین نے مبینہ طور پر ملوث اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج نہ ہونے کیخلاف دو دنوں تک ہوشاب اور تربت میں دھرنا دیا اور پھر میتیں لے کر 13 اکتوبر کو تقریباً 760 کلومیٹر فاصلہ طے کرکے کوئٹہ زرغون روڈ پہنچے اور گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان ہاؤس کے قریب دھرنا دے دیا تھا۔




[ad_2]

Source link

کیٹاگری میں : URDU

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں