8

Pakistan to remain on FATF grey list

Spread the love

[ad_1]

FATF LATE NEWS PKG 25-06 Shahbaz

فائل فوٹو

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کا نام بدستور گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان 34 میں سے 30 نکات پر عملدرآمد کرچکا ہے۔

 فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا 3 روزہ اجلاس پیرس میں ختم ہوگیا، اجلاس میں حکومتِ پاکستان کی 27 ویں شرط پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی سزاؤں سے متعلق کارکردگی کو بھی جانچا گیا۔

ایف اے ٹی ایف کا آئندہ اجلاس 27 فروری سے 4 مارچ 2022ء تک ہوگا۔

ایف اے ٹی ایف کے مطابق پاکستان نے منی لانڈرنگ کے خاتمے کیلئے خاطر خواہ پیشرفت کی ہے، اس حوالے سے پاکستان نے 6 میں سے 4 شرائط کو پورا کرلیا ہے، مجموعی طور پر پاکستان 27 میں سے 26 شرائط پوری کرچکا ہے۔

ایف اے ٹی ایف نے اپنے بیان میں منی لانڈرنگ، ٹیرر فنانسنگ کیخلاف پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کیا ہے۔ فیٹف کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق مزید ایک نکتے پر پیشرفت جاری رکھے۔

ایف اے ٹی ایف نے یہ بھی اعتراف کیا کہ پاکستان نے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے خلاف تیز اقدامات کئے ہیں، عالمی تعاون بڑھانے کیلئے قانون سازی بھی کی گئی، مجموعی طور پر پاکستان 30 شرائط پر عمل کرچکا ہے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے ترکی، اومان اور مالی کے نام بھی گرے لسٹ ميں ڈالنے کا اعلان کردیا۔

ایف اے ٹی ایف نے مطالبہ کیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی جانب سے بلیک لسٹ کی گئی تنظیموں اور افراد پر پابندی لگائے۔

وزارت خزانہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ فیٹف نے پاکستان کی نمایاں پیشرفت کا اعتراف کرلیا، پاکستان نے 7 میں سے مزید 4 نکات مکمل کرلئے، فیٹف کی طے کردہ ٹائم لائن سے پہلے ہی ان نکات پر عمل کیا گیا، باقی ماندہ 3 نکات پر بھی مقررہ مدت سے پہلے عمل کیا جائے گا۔

وزارت خزانہ نے مزید کہا کہ نان فنانشنل بزنسز اور پروفیشنز کی نگرانی کیلئے قوانین میں ترمیم کی، بینیفیشل اونر شپ کی معلومات سے متعلق بھی شفافیت پیدا کی گئی۔

ایف اے ٹی ایف کیا ہے اور کس طرح کام کرتی ہے؟

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے قیام کا فیصلہ 1989ء میں تقریباً 32 سال قبل جی 7 ملکوں نے فرانس میں منعقدہ اجلاس میں کیا تھا، بعد ازاں جی سیون اتحاد کے ممبران کی تعداد 16 ہوئی جو اب بڑھ کر 39 ہوچکی ہے، ایف اے ٹی ایف میں 37 ممالک اور 2 علاقائی تعاون کی تنظمیں شامل ہیں۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف سے وابستہ ایشیا پیسیفک گروپ کا حصہ ہے، اس تنظیم کی براہِ راست اور بالواسطہ وسعت 180 ملکوں تک ہے۔

ایف اے ٹی ایف ایک ٹاسک فورس ہے جو حکومتوں نے باہمی اشتراک سے تشکیل دی ہے۔ ٹاسک فورس کے قیام کا مقصد منی لانڈرنگ کیخلاف مشترکہ اقدامات تھا، امریکا میں 11 ستمبر 2001ء کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے بعد یہ ضرورت محسوس ہوئی دہشتگردی کیلئے فنڈز کی فراہمی کی بھی روک تھام کیلئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے، جس کے بعد اکتوبر 2001ء میں ایف اے ٹی ایف کے مقاصد میں منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی فنانسنگ کو بھی شامل کرلیا گیا۔ اپریل 2012ء میں بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فنانسنگ پر نظر رکھنے اور اس کی روک تھام کے اقدامات پر عملدرآمد کروانے کی ذمہ داری اسی ٹاسک فورس کے سپرد کی گئی۔

ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کے حوالے سے دنیا بھر میں یکساں قوانین لاگو کروانے اور ان پر عمل کی نگرانی کرنے کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔

اس کی کوشش ہے کہ اس کے ہر رکن ملک میں مالیاتی قوانین کی یکساں تعریف پر عملدرآمد کیا جائے اور ان پر یکساں طور پر عمل بھی کیا جائے تاکہ دنیا میں لوٹ کھسوٹ سے حاصل ہونیوالی دولت کی نقل و حرکت کو مشکل ترین بنا دیا جائے اور لوگوں کیلئے اس قسم کی دولت رکھنا ناممکن بن جائے۔

ایف اے ٹی ایف نے اپنے قیام کے پہلے 2 برسوں میں تیزی سے کام کیا اور 1990ء تک تجاویز کا پہلا مسودہ تیار کیا۔ بعدازاں 1996ء، 2001ء، 2003ء اور 2012ء میں یہ اپنی دیگر تجاویز بھی پیش کرچکی ہے۔ 




[ad_2]

Source link

کیٹاگری میں : URDU

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں