4

Trade deficit double in three months

Spread the love

[ad_1]

رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی جولائی تا ستمبر کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا ہے جو گزشتہ سال اس عرصے کے دوران 8 کروڑ 65 لاکھ ڈالر سرپلس تھا۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کی وجہ درآمدات کا بڑھنا بتایا جارہا ہے جس کو روکنے کیلئے اسٹیٹ بینک کی جانب سے کئی اقدامات کئے گئے ہیں، جس کا محدود پیمانے پر اثر بھی دیکھنے میں آیا ہے اور گزشتہ ماہ ستمبر کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب 11 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو اس سے پچھلے ماہ اگست کے ایک ارب 47 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 36 کروڑ ڈالر کم ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اب بھی کافی زیادہ ہے اور اس کا دباؤ زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی بڑھ رہا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے جاری اعداد و شمار کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بنیاد فراہم کرنیوالا تجارتی خسارہ ہے جو برآمدات کے مقابلے میں درآمدات میں مسلسل اضافے کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔

گزشتہ ماہ ستمبر کے دوران ملک سے 2 ارب 64 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی اشیاء برآمد کی گئیں جبکہ اس کے مقابلے میں درآمدی اشیاء کا حجم 6 ارب 7 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہا، جس کے سبب تجارتی خسارہ 3 ارب 43 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہوگیا جبکہ اگست میں تجارتی خسارہ 3 ارب 65 کروڑ ڈالر سے کم ہے لیکن عمومی طور پر اب بھی ماہانہ تجارتی خسارہ گزشتہ سال ستمبر کے مقابلے میں دگنا ہے۔

 اسٹیٹ بینک کے مطابق تجارتی خسارے کا دباؤ کافی حد تک بیرونی ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانیوالی ترسیلات زر نے روکا ہوا ہے گزشتہ ماہ ستمبر میں ترسیلات زر 2 ارب 77 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہی جبکہ جولائی تا ستمبر کے دوران ترسیلات زر کا مجموعی حجم 8 ارب 49 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہوگئی ہیں اور برآمدات کے مقابلے میں ترسیلات زر کا حجم بڑھ گیا ہے۔

مذکورہ تین ماہ میں 7 ارب 24 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی اشیاء برآمد کی گئیں جبکہ اس کے مقابلے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اس عرصے میں 8 ارب 3 کروڑ 50 لاکھ ڈالر وطن بھیجے، اس لحاظ سے برآمدات کے مقابلے میں ترسیلات زر بڑھ گئی ہیں اور درآمدات کے مقابلے میں برآمدات کے بجائے ترسیلات زر زیادہ مؤثر ثابت ہورہی ہیں۔




[ad_2]

Source link

کیٹاگری میں : URDU

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں